• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

سلفیت میں چار مقامات پر یہودی شرپسندوں کی تعمیرات کے لیے کھدائی شروع

اتوار 02-11-2014
in فلسطین
0
plf diggingstart
0
SHARES
1
VIEWS

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض شرپسند یہودیوں نے شمالی شہر سفلیت میں یہودی آباد کاری کے لیے چار مقامات پرفلسطینی اراضی کی کھدائی شروع کی ہے تاکہ اس علاقے میں مزید یہودیوں کو آباد کیا جاسکے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ سلفیت میں اتوار ے روز چار مقامات پریہودیوں کے لیے مکانات کی تعمیر کی غرض سے کھدائی شروع کی۔

مقامی فلسطینی سماجی کارکن اوریہودی توسیع پسندی کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار خالد المعالی نے بتایا کہ فلسطینی اراضی میں تازہ کھدائیاں سلفیت میں قائم ’’بروحین‘‘  اور ’’رفافا‘‘ یہودی کالونیوں میں کی گئی ہیں۔ بروحین میں  فلسطینی اراضی پر اسرائیل کی ’’ارئیل ‘‘ عبرانی یونیورسٹی کا  ایک کیمپس بنایا جا رہا ہے جبکہ دوسری یہودی کالونی میں یہودی آباد کاروں کے لیے مکانات کی تعمیر کی جارہی ہے۔

خالد المعالی نے بتایا کہ سلفیت شہر اور اس کے اطراف میں یہودی شدت پسندوں کی توسیعی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوچکا ہے۔ یہودی اپنی مرضی کے تحت کالونیوں میں مکانات کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں صہیونی فوج، حکومت اور انتہا  پسند گروپوں کی بھی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ المعالی کا کہنا ہے کہ سلفیت میں موجودہ اور مجوزہ 24 یہودی کالونیوں میں سلفیت گورنری اور اس کے مضافات کے18 دیہات کو شامل کیا گیا ہے۔

خالد المعالی کا کہنا تھا کہ سلفیت میں قابض یہودی آباد کارنہ صرف فلسطینی اراضی پرغاصبانہ قبضے کررہے ہیں بلکہ ان کی وجہ سےفلسطینیوں کو معاشی اور اقتصادی طورپر بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہودیوں کی غیرقانونی توسیعی سرگرمیوں کے باعث شہر میں زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہودی غنڈہ گردی کے نتیجے میں سلفیت کی 70 فی صد زرعی ناکارہ بنا دی گئی ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ سلفیت بیت المقدس کے بعد یہودی شرپسندی کا دوسرا بڑا مرکز بن چکا ہے۔ اسرائیل اس شہر کے قدرتی وسائل کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور یہودی آباد کار مسلسل شہر کی زرخیز زمین کو تباہی اور بربادی سے دوچار کررہے ہیں۔

یہ شہر رام اللہ، نابلس، بیت لحم اور مغربی کنارے کے کئی دوسرے شہروں کے لیے پانی کا بیش بہا زخیرہ فراہم کرتا ہے۔ قدرتی وسائل میں پانی کے علاوہ سفید اور سرخ قیمتی پتھر بھی اس علاقے میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہودی شرپسندوں کی جانب سے فلسطینی اراضی کی کھدائیوں کا ایک مقصد قیمتی پتھروں کی تلاش بھی ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.