نابلس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں اذان اور نماز پر پابندی عائد کیے جانے کے رد عمل میں فلسطینی عوام میں سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قبلہ اوّل کی بندش کے خلاف فلسطین کے مختلف شہروں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ گذشتہ روز غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں دفاع قبلہ اوّل ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ ریلی میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر قبلہ اوّل کی حمایت اور اسرائیلی پابندیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مظاہرین نے قبلہ اوّل پر اسرائیلی پابندیوں کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔
رپورٹ کے مطابق نابلس میں Â دفاع قبلہ اوّل ریلی اسلامک ایکشن فرنٹ کی جانب سے بلائی گئی تھی۔
ادھر غزہ کی پٹی میں فلسطینی علماء کونسل کی اپیل پر قبلہ اوّل کے دفاع میں ایک جلوس نکالا گیا۔ غزہ میں نکالے گئے جلوس میں بڑی تعداد میں شہرویوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر علماء نے اپنی تقاریر میں دفاع قبلہ اوّل پر روشنی ڈالی اور اسرائیلی پابندیوں کو صہیونی دشمن کی مذہبی جارحیت قراردیا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں تین فلسطینی نوجوانوں کو شہید کرنے کے بعد قبلہ اوّل میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی تھی۔ گذشتہ روز اسرائیلی انتظامیہ نے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ تاہم مکمل طور پر پابندیاں نہیں اٹھائی گئیں۔
