رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی ’مجد‘ جیل میں قید 17 سالہ فلسطینی لڑکی کو اسے دی گئی قید کی سزا کا دو تہائی عرصہ مکمل ہونے کے بعد رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امور اسیران کے ایک وکیل علی السعدی نے ایک بیان میں بتایا کہ 17 سالہ عمر ناصر الشرقاوی کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسے سنائی گئی قید کی سزا کاÂ دو تہائی عرصہ مکمل ہوچکا ہے۔ الشرقاوی کا تعلق غرب اردن کے شمالی شہر نابلس کے عسکر کیمپ سے ہے۔السعدی نے بتایا کہ اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر نے عدالتی کمیشن سے کہا ہے کہ وہ الشرقاوی کی رہائی کو ایک ہفتے کے لیے روک دیں تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ آیا اس کی رہائی روکنے کے لیے اپیل کی ضرورت ہے یانہیں۔
خیال رہے کہ ناصر شرقاوی کو اسرائیلی فوج نے 19 مئی 2017ء کو نابلس میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران حراست میں لیا تھا۔ شرقاوی اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ایک ریلی میں شریک تھا تاہم صہیونی فوج نے اس پر سنگ باری کا الزم عائد کیا ہے۔
اسی الزام میں شرقاوی سات ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے پانچ ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔
