مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) بیت القدس میں اسلامی قبرستانوں کی حفاظت پر مامور ایک مقامی کمیٹی نے اسرائیل کی مرکزی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت، بلدیہ اور ماحولیاتی اتھارٹی کو تاریخی قبرستان ’باب الرحمۃ‘ کے تقدس کو برقرار رکھنےÂ کا پابند بنائے اور انہیں قبرستان میں تصرف سے باز رکھے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیاہے کہ اسرائیلی حکومت ، محکمہ آثار قدیمہ اور بلدیہ باب الرحمہ قبرستان میں تصرف کی کوششیں کررہے ہیں۔ لہذا عدالت اس تاریخی قبرستان میں موجود قبروں کو اکھاڑنے، یا قبرستان میں موجود درختوں کو کاٹنے سے سختی سے روکے۔اسلامی مقابر کمیٹی کے چیئرمین مصطفیٰ ابو زھری نے کہا کہ اسرائیل کی مرکزی عدالت ان کی طرف سے دائر کی گئی درخوات پر جلد غور کرے گی۔ انہوں نے درخواست کے ساتھ باب الرحمۃ قبرستان کی تاریخی دستاویزات بھی مہیا کی ہیں۔ یہ قبرستان برطانوی دور میں ’طابو‘ درج تھا اور 1938ء میں وقف فلسطینی قبرستان قرار دیا گیا تھا۔
ابو زھرہ نے کہا کہ باب الرحمۃ قبرستان کا کل رقبہ 23 ہزار مربع فٹ ہے اور یہ قبرستان خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر کے دور میں بیت المقدس کی فتح کے بعد سے مسلمانوں کا قبرستان کہلاتا ہے۔ اس میں کئی جلیل القدر صحابہ کرام، تابعین اور بزرگان دین کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باب الرحمۃ قبرستان ناقابل تصرف ہے۔ وقت گذرنے سے اس کے تقدس اور حرمت کو کم یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ 1400 سال سے یہ قبرستان مسلمانوں کے لیے وقف ہے اور اس میں یومیہ کی بنیاد پر فوت ہونے والے مسلمانوں کو دفن کیا جاتا ہے۔
