جنین – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی زنداں میں پابند سلاسل فلسطینی سامر المحروم المعاد کی ماں بیٹے کے دیدار کا دکھ اپنے ساتھ لیے گذشتہ روز خالق حقیقی سےجا ملیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسیر سامرالمحروم کی والد الحاجہ ام عصام المحروم غرب اردن کے شمالی شہر جنین کی ایک سرکردہ سماجی کارکن تھیں۔ وہ گذشتہ تیس سال سے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ہونے والے ہرمظاہرے اور ریلی میں شریک رہیں۔سامر المحروم اسرائیلی جیل میں 27 سال قید رہے۔ انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تاہم سنہ 2011ء میں انہیں غزہ میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں رہا کردیا گیا تھا مگر کچھ ہی عرصہ بعد انہیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق الحاجہ ام عصام المحروم ایک لا علاج مرض کا شکار تھیں اورÂ طویل عرصے سے اسپتال میں زیرعلاج رہیں۔ گذشتہ روز اچانک ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ جاں بر نہ ہوسکیں اور خالق حقیقی سے جا ملیں۔
الحامہ ام عصام کی وفات سے پورے علاقے میں کہرام برپا ہوگیا۔ ان کی وفات سے جنین شہر ایک متحرک سماجی کارکن اور ہمدرد و شفیق ماں سے محروم ہوگیا۔ ام عصام کے انتقال کی خبر سنتے ہی شہریوں کی بھاری تعداد ان کے گھر پر جمع ہوگئی۔ بعد ازاں انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
