فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں 12 فلسطینی قید تنہائی میں ڈالے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض اسیران کو قید تنہائی میں ڈالے جانے کو کئی سال گذر چکے ہیں۔ قید تنہائی کے شکار فلسطینی خطرناک امراض کا شکار ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس الخلیل سے تعلق رکھنے والا ایک فلسطینی رائد عبدالسلام الجعبری طویل قید تنہائی کے بعد جام شہادت نوش کرگیا تھا جس کے بعد قید تنہائی کے اور خطرناک امراض کے نتیجے میں صہیونی زندانوں میں جان کی ہازی ہارنے والے اسیران کی تعداد تین ہوگئی ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب ریاض الاشقر نے خبردار کیا کہ اگر قید تنہائی میں ڈالے گئے اسیران کو بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی توان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں کیونکہ قید تنہائی کے تحت پابند سلاسل اسیران میں بعض چار سال سے مسلسل تنہائی میں قید کاٹ رہے ہیں۔
قید تنہائی کا سامنا کرنے والے اسیران میں حسام یونس عمر، موسیٰ سعید صوفان سنہ 2013 سے مسلسل قید تنہائی کا شکار ہیں۔
