فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غرب اردن کے شمالی شہر طولکرم میں واقع ’’خضوری ٹیکنیکل‘‘ یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج کی طرف سے آئے روز جامعہ کے کیمپس پر چھاپے مارے جاتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جامعہ خضوری اسرائیل کا Â ملکیتی ادارہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی انتظامیہ طلباء کے تعاقب اور ان کی تلاشی و تفتیش کی آڑ میں جامعہ کے تقدس کو کھلے عام پامال کرتی ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران جامعہ خضوری پر 85 بار چھاپے مارےگئے اور طلباء، اساتذہ اور دیگر عملے کو زدو کوب کیا گیا۔
یونیورسٹی کی طرف سے عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے مسلسل دھاوؤں کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور طلباء کی مسلسل ہراسانی کا صہیونی ظالمانہ سلسلہ بند کرائیں۔
پریس کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اسرائیلی فوج کے آئے روز چھاپوں، طلباء اور دیگر عملے کو زدو کوب کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اپنے سیکیورٹی اداروں کو نکیل ڈالے اور یونیورسٹی پر آئے روز دھاووں کا سلسلہ بند کرایا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے مسلسل چھاپے فلسطینی طلباء کے تعلیمی مستقبل کو تباہ کرنے کی سازش ہیں۔ اسرائیلی فوج بغیر کسی وجہ کے کلاسوں میں داخل ہو کر طلباء اور اساتذہ کو ہراساں کرکے یہ ثابت کررہی ہے کہ اس کا اصل ہدف اور مقصد طلباء کو تعلیم سے محروم کرنا اور اساتذہ کو اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی سے روکنا ہے۔
