الخلیل (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدسÂ اور اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف فلسطینی شہریوں کا احتجاج جاری ہے۔ کل جمعہ کو فلسطین بھرمیں نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد ٹرمپ کے اعلان القدس کےخلاف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صیہونی فوج نے پرامن فلسطینی ریلیوں پر طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہری شہید اور کئی زخمی ہوگئے۔فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردی ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی فوج نے الخلیل شہر میں الزاویہ کے مقام پر دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 سالہ محمد زین الجعبری کو شہید کردیا۔
وزارت صحت کے مطابق الجعبری کو اسرائیلی فوج نے گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔اسے زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
فلسطینی خبر رساں ادارے ’وفا‘ کے مطابق شہید الجعبری جسم سے معذور تھا۔ اس کے باوجود صیہونی فوج نے اسے گولیاں مار کر شہید کردیا۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی کی سرحد، غرب اردن کے تمام شہروں اور بیت المقدس میں اسرائیلی ریاستی دہشت گردی اور ٹرمپ کے اعلان القدس کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔
صیہونی فوج نے فلسطینی ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کی شیلنگ اور دھاتی گولیوں کی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے۔
فلسطینی طبی امدادی ادارے ہلال احمر کی رپورٹ کے مطابق امدادی کارکنوں نےÂ جمعہ کے روز اسرائیلی ریاستی دہشت گردی اور فائرنگ سے زخمی ہونے والے 73 فلسطینیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی۔
ہلال احمر کے مطاق اسرائیلی فوج کی براہ راست فائرنگ سے 19، دھاتی گولیوں سے 47 اور دسیوں افراد آنسوگیس کی شیلنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔
بیت المقدس میں جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کو قبلہ اول میں نماز جمعہ کی ادائی سے روکا تاہم اس کے باوجود 50 ہزار فلسطینی نماز جمعہ کے لیے قبلہ اول میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔
جمعہ کے روز غرب اردن کے شمالی شہر نابلس، وسطی شہر رام اللہ ، البیرہ، قلقیلیہ، الخلیل اور غزہ کی پٹی میں القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔
