فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شادی Â مطور کے بھائی اور سماجی کارکن فادی مطور نے بتایا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس حکام کی طرف سے ان کے بھائی کو ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں انہیں کہا گیا تھا کہ وہ ’القشلہ‘ سیکیورٹی سینٹر میں خود کو پیش کریں۔ جب وہ وہاں پیش ہوئے تو انہیں کہا گیا کہ ان پر مسجد اقصیٰ پر چھ ماہ کے لیے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
فادی مطور کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی اور فتح کے مقامی رہنما شادی مطور کو ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ 11 ستمبر سے 8 مارچ 2018ء مسجد اقصیٰ میں داخل نہیں ہوسکتے۔
’قدس پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال صہیونی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے نام نہاد الزامات کے تحت 12 فلسطینیوں پر مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کی ہے۔
