رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی عدالت نے رام اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی شہری امجد النجار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، جس کے بعد صہیونی زندانوں میں عمرقید کے سزا یافتہ فلسطینیوں کی تعداد 501 ہوگئی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی اسیران اسٹڈی سینٹر کے ترجمان ریاض الاشقر نے بتایا کہ رواں سال کے دوران اب تک چھ فلسطینیوں کو اسرائیلی عدالتوں سے عمر قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ تازہ ترین عمر قید کے سزا یافتہ فلسطینی شہری 37 سالہ امجد مصطفیٰ النجار کا تعلق غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ کے سلواد قصبے سے ہے۔ اسے ساڑھے تین لاکھ شیکل جرمانہ کی سزا بھی سنائی گئی۔ امجد پر الزام تھا کہ اس نے جون 2015ء کو ایک صہیونی آباد کار کو ہلاک اور تین کو زخمی کرنے میں مدد کی تھی۔ریاض الاشقر نے بتایا کہ النجار کو اسرائیلی فوج نے جولائی 2015ء کو حراست میں لیا اور اس پر ایک صہیونی کو قتل اور تین کو زخمی کرنے کے ساتھ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ساتھ وابستگی کا بھی الزام عائد کیا۔
الاشقر کے مطابق صہیونی قانون کے تحت عمر قید تا حیات قید شمار کی جاتی ہے، جسے کم سے کم 99 سال کا عرصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیلی عدالتیں صہیونی آباد کاروں اور فوجیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کو فوج داری کیسز کے ملزمان قرار دے کر انہیں عمر قید یعنی تا حیات قید کی سزائیں سناتی ہیں۔
