مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2017ء کے دوران صیہونی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں کے 5000 واقعات کا اندراج کیا گیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’حریہ نیوز‘ کی جانب سے نشر کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں قابض صیہونی فوج نے 484 فلسطینی شہریوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ حراست میں لیا۔ ان مین سے القدس سے گرفتار کئے گئے فلسطینیوں کی تعداد 156 تک پہنچ جاتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی شہروں، پناہ گزین کیمپوں، دیہاتوں اور کالونیوں میں 700 بار چھاپے مارے اور شہریوں کو زدو کوب کیا۔Â بار چھاپے مارے اور شہریوں کو زدو کوب کیا۔ 300 فلسطینیوں کو بیرون ملک سفر سے روکا۔ فلسطینیوں کی 50 دونم اراضی پرغاصبانہ تسلط قائم کیا۔ فلسطینی شہریوں کے 9 مکانات مسمار کیے جن میں سے 6 مکانات بیت المقدس میں مسمار کیے گئے۔ اکتوبر میں فلسطین میں صیہونی آباد کاری کے منصوبوں کی بھی منظوری اور تعمیر جاری رہی۔ گذشتہ ماہ قابض حکومت نے فلسطین میں 2807 نئے مکانات تعمیر کرنے کی منظوری دی۔ ان میں سے 2600 مکانات بیت المقدس میں تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ 700 نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔ 757 مکانات فوری تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا۔
مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں 24 پار دھاوا بولا گیا اور 2500 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی۔
اکتوبر کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 35 سالہ فلسطینی شہری محمد عبداللہ موسیٰ نے جام شہادت نوش کیا جب کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 35 فلسطینی زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے ساتھ ساتھ صیہونی شرپسندوں کی جانب سے فلسطینیوں کی جان ومال پرحملوں کا سلسلہ بھی عروج پر رہا۔ صیہونی آباد کاروں نے فلسطینی شہریوں پر 56 بار حملے کیے۔
