الخلیل – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور صیہونیوں کی جانب سے آبی وسائل میں گندگی پھینکے جانے کے نتیجے میں زہرآلود پانی پینے سے 400 فلسطینی شہری بیمار پڑ گئے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل میں قائم ایک پناہ گزین کیمپ کے چار سو فلسطینی آلودہ پانی پینے سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے پانی کے ذخائر میں صیہونی آباد کاروں کی طرف سے گندگی پھینکی گئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ الخلیل شہر میں قائم الفوار پناہ گزین کیمپ میں دست اور قے کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سوموار 16 اکتوبر سے اب تک 400 افراد مقامی مرکزی کنوئیں سے زہریلا پانی پینے کے نتیجے میں بیمار ہوچکے ہیں۔
فلسطینی وزیر صحت ڈاکٹر جواد عواد نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم امدادی ادارے’اونروا‘ سے رابطہ کرنے اور بیماری کے پھیلنے کو روکنے کے لیے اقدامات کے احکامات دیے ہیں۔
پانی میں زہریلے اثرات کی شمولیت کے بعد وزارت صحت نے فوری حفاظتی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ شہریوں کو کلورین مواد کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ مواد پانی کومضر صحت اثرات سے صاف کرنے میں مدد دیتا ہے اور’اونروا‘ کے پاس اس کی وافر مقدار موجود ہے۔
اسکولوں، مساجد اور اسپتالوں کے پانی کو بھی زہریلے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
