فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اگست میں عوفر عدالت کی طرف سے 39 بچوں کو رہائی کے بدلے جرمانے کیے گئے۔ عدالت نے مجموعی طور پر 1 لاکھ 10 ہزار شیکل کی رقم جرمانہ کے طور پر وصول کی۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مطابق اگست کے دوران اسرائیلی فوج نے ’عوفر‘ جیل میں چھوٹی عمر کے افراد کے لیے مختلف قید خانے میں 59 بچوں کو منتقل کیا۔ ان میں سے 40 کو ان کے گھروں سے، 10 کو راستوں ، 3 کو چیک پوسٹوں، چار کو حراستی مراکز میں طلب کرنے اور دو غیرمجاز علاقوں میں کام کرنے پر حراست میں لیا گیا۔
چار بچوں کی گرفتاریوں سے قبل ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوئے۔ 13 کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان میں سے بیشتر کو ایک ماہ سے 32 ماہ کے درمیان قید کی سزائیں اور بھاری جرمانے کیے گئے۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران نے فلسطینی بچوں کو دی جانے والی جرمانوں کی سزاؤں کو غیرقانونی اور ظالمانہ قرار دے کر انہیں مسترد کردیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو بھاری جرمانوں کی سزائیں فلسطینیوں کی جیبیں خالی کرنے اور ان کی لوٹ مار کا ایک مکروہ حربہ ہے۔
