الخلیل – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی محکمہ امور اسیران کی اسٹڈی یونٹ کے چیئرمین اور دفاع اسیران کمیٹی کے رکن عبدالناصر فروانہ نے کہا ہے کہ اُنہوں نے عمر رسیدہ فلسطینی اسیر یوسف ابو الخیر کی رہائی کے لیے مہم شروع کی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 72 سالہ یوسف ابوالخیرکو اسرائیلی عدالت کی طرف سے سزائی گئی عمر قید کی سزا بحال کردی ہے۔ یوسف ابو الخیر کو سنہ1983ء کو طے پائے ایک قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں رہا کیا گیا تھا مگر کچھ عرصہ قبل انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا اور ان کی عمر قید کی سزا پھر سے بحال کردی گئی تھی۔خیال رہے کہ اسرائیلی قانون کے تحت عمر قید تا حیات قید کی سزا تصور کی جاتی ہے جس کی مدت ننانوے سال مقرر ہے۔
ناصر فروانہ نے یوسف ابو الخیر کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے دوبارہÂ عمر قید کی سزا کو ظالمانہ اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ ابو الخیر کو شمالی فلسطین کے شہر عکا سے غزہ واپسی کے دوران حراست میں لیا گیا۔ وہ تیس سال تک اسرائیلی جیلوں میں قید رہے جہاں وہ متعدد امراض کا بھی شکارÂ ہوئے۔ ان کی رہائی کے لیے فلسطین میں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر بھی پرزور مہم جاری ہے۔
