فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کلب برائے اسیران کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید فلسطینی نونہالوں کی تعداد 300 سے زاید ہے۔ ان سب کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج نے 800 فلسطینی بچوں کو جیلوں میں ڈالا۔ ان میں سے اکثریت کا تعلق مقبوضہ بیت المقدس سے تھا۔ انہیں کئہ ماہ تک قید رکھنے اور بھاری جرمانے وصول کرنے کے بعد رہا کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی زندانوں میں Â فلسطینی بچے نہ صرف زیور تعلیم سے محروم ہیں بلکہ دوران حراست انہیں انسانیت سوز مظالم کا بھی سامنا ہے۔ کم سن بچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2015ء کے دوران صہیونی فوج نے سیکڑوں فلسطینی بچوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا۔ سنہ 2016ء کے آخر تک اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینی بچوں کی تعداد 1332 تک جا پہنچی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کو بغیر کسی جرم کے قید کرنا، ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلانا یا انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت انہیں زندانوں میں ڈالنا عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ ہیومن رائٹس چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ خلاف ورزی اسرائیلی زندانوں میں دھڑلے اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ جاری ہے۔
