فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک فلسطینی نوجوان نے حلمیش صہیونی کالونی میں گھس کرچار صہیونی آباد کاروں پر چاقو کے متعدد وار کیے جس کے نتیجے میں تین صہیونی موقع پر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔
عبرانی نیوز ویب پورٹل ’’وللا‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جوابی فائرنگ میں فلسطینی حملہ آور کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ بھی شدید زخمی ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی نوجوان نے حلمیش صہیونی کالونی پر دھاوا بولا اور چار صہیونی آباد کاروں کو خنجر گھونپ دیے جس کے نتیجے میں کالونی میں سخت خوف ہراس پھیل گیا۔
فلسطینی میڈیا کے مطابق حملہ آور نوجوان کی شناخت عمر عبدالجلیل العبد کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 20 سال ارو رہائشی تعلق شمالی رام اللہ کے کوبر قصبے سے ہے۔ ایک مقامی ذریعے کا کہنا ہے کہ العبد کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں تاہم اسے گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
واقعے کے بعد اسرائیل فوج نے کوبر قصبے کا محاصرہ کرلیا تھا اور فلسطینی شہریوں کی تلاشی شروع کردی تھی۔
خیال رہے کہ حلمیش کالونی رام اللہ میں سنہ 1977ء میں قائم کی گئی تھی۔ یہ ایک زرعی کالونی ہے جس میں فلسطینیوں کے ہزاروں دونم رقبے پرقبضہ کرنے کے بعد فارم ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔
رام اللہ میں یہ مزاحمتی حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب پورے فلسطین میں کل جمعہ کو فلسطینی قبلہ اوّل پر اسرائیلی پابندیوں کے خلاف یوم الغضب منا رہے تھے۔
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے حلمیش کالونی میں دلیرانہ مزاحمتی حملے کی تحسین کی ہے اور کہا ہے کہ Â یہ مزاحمتی حملہ اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کا فطری رد عمل ہے۔
