غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے القدس کے بارے میں غیرمنصفانہ فیصلے پر فلسطین میں آزادی القدس انتفاضہ جاری ہے۔ گذشتہ روز فلسطین بھرمیں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج نے روایتی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر وحشیانہ بم باری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوگئے۔فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نےانڈونیشی اسپتال کے قریب بم باری کی جس کے نتیجے میں 54 سالہ فلسطینی شہید اور 15 زخمی ہوگئے۔ شہید فلسطینی کی شناخت ماھر عطاء اللہ کے نام سے کی گئی ہے۔ گذشتہ روز فلسطین بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران 1200 کے قریب فلسطینی شہری زخمی ہوگئے ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے غزہ میں ایک 29 سالہ فلسطینی محمود المصری شہید ہوگیا۔
رپورٹ کے مطابق بیت المقدس میں 935 اور غزہ کی پٹی میں 179 فلسطینی زخمی ہوئے جن میں سے 5 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
جمعے کی صبح سے شروع ہونے والے یہ مظاہرے حماس ودیگر فلسطینی تنظیموں کی اپیل پر مقبوضہ بیت المقدس، غزہ پٹی اور مغربی کنارے کے تمام شہروں اور قصبوں میں ہوئے۔
مسجد اقصیٰ کا العمود دروازے کے سامنے ہزاروں فلسطینیوں نے نماز جمعے کے بعد دھرنا دیا، جس پر اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کیا۔
اسی طرح مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں بھی بڑے مظاہرے کئےگئے، بیت لحم کے شمالی حصے میں دسیوں فلسطینی مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اوراسرائیلی فورسز پر پتھراؤ کیا۔
ہلال احمر کے مطابق 61 فلسطینی براہ راست گولیاں لگنے سے 200 ربڑ کی گولیوں، 479 آنسوگیس کی شیلنگ اور 27 فلسطینیÂ دیگر پرتشدد حربوں میں زخمی ہوئے۔
گزہ کی پٹی میں زخمی ہونے الے 155 فلسطینیوں میں سے تین کی حالت نازک بیان کی جاتی ہے۔ آنسوگیس کی شیلنگ سے 65 فلسطینی دم گھٹنے سے بھی متاثر ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
