فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف اسرائیلی فوج کا وحشیانہ کریک ڈاؤن فلسطین میں قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے جاری احتجاجی تحریک کچلنے کی مذموم سازش ہے۔
یہ کریک ڈاؤن حماس کے خلاف نہیں بلکہ دفاع قبلہ اوّل کے لیے آواز بلند کرنے والے فلسطینی شہریوں کے خلاف ہے۔
رپورٹ کے مطابق سلفیت سے حماس کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر عمر عبدالرزاق مطر اور دیگر شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ الخلیل شہر سے الشيخ نضال أبو اسنينة ، أحمد العويوي، نوح الهشلمون ، علاء الزعاقيق ،إسماعيل النطاح ، جمال عادي ، بارہ سال اسرائیلی جیل میں قید رہنے والے سابق اسیر محمد منیر اخلیل اور محسن علی زماعرہ کو حراست میں لے لیا۔
جنین سے سابق اسیرعبدالسلام، غسان الزغیبی، اسیر رہنما جمال ابو الھیجا کے بیٹے عبدالسلام، بیت لحم سے جعفر عبداللہ عروج، اریحا سے Â الشیخ شاکر عمارہ، نابلس سے سابق اسیر عمر الحنبلی، ڈاکٹر نضال ابو رمیلہ، محمود وجیہ قط، سابق اسیر علی لولح، قلقیلیہ سے محمد خضر، معاذ عطیہ، مصعب عطیہ، محمد فریج، ناصر الرابی اور طوباس سے اشرف دراغمہ کو حراست میں لے لیا گیا۔
