غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی محکمہ امور اسیران کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد اسرائیل کے عقوبت خانوں میں ڈالے گئے 213 فلسطینی قید وحشیانہ تشدد یا مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی امور اسیران کے شعبہ تحقیق و مطالعہ کے چیئرمین عبدالناصر فروانہ نے بتایا کہ دوران حراست شہید ہونے والوں میں سات فلسطینی یکم اکتوبر 2015ء کو شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ القدس کے دوران شہید ہوچکے ہیں۔ ان میں ایک 15 سالہ فلسطینی بچی فاطمہ طقاطقہ بھی شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 72 فلسطینی جان لیوا تشدد کے باعث دم توڑ گئے۔59 بیماروں کو طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث ان کی موت واقع ہوئی۔ 75 فلسطینیوں کو حراستی مراکز میں گولیاں مار گئیں اور انہیں دانستہ طورپر شہید کردیا گیا۔
اس کے علاوہ صیہونی زندانوں میں المناک تشدد کے بعد رہا ہونے والے سیکڑوں فلسطینی اس تشدد کے نتیجے میں شہید ہوچکے ہیں۔
فروانہ نے بتایا کہ سنہ 2015ء کو شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ القدس کے دوران صیہونی فوج نے سیکڑوں فلسطینیوں کو انتہائی قریب سے گولیاں مار کر شہید کیا۔
انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ صیہونی ریاست کے جرائم کا محاسبہ کریں اور زیرحراست فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور وحشیانہ مظالم سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
