فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج Â نے مسجد الاقصیٰ میں Â سوموار کو فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ اسرائیلی حکام نے دروازوں پر ڈیٹکٹرز اور کیمروں کی تنصیب تک مسجد الاقصیٰ کے حکام کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ جب کہ صہیونی آباد کاروں کو مسجد میں داخلے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے
اسرائیل نے گذشتہ کئی عشروں میں پہلی مرتبہ جمعہ کے روز مسجد الاقصیٰ کو تشدد کے ایک واقعے کے بعد بند کردیا تھا۔ تب تین عرب شہریوں نے خود کار ہتھیاروں سے اسرائیلی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی تھی جس سے دو پولیس اہلکار ہوگئے تھے۔ اسرائیلی پولیس اہلکاروں نے مسجد میں گھس کر ان تینوں حملہ آور کو فائرنگ کرکے موت کی نیند سلا دیا تھا۔
خبر رساں ایجنسی ’قدس پریس‘ کی رپورٹ کے مطابق سوموار کے دن کو پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں صہیونی آباد کار باب المغاربہ (مراکشی دروازے) سے داخل ہوئے اور کئی گھنٹے مسجد میں گھومنے پھرنے کے بعد باب السلسلہ سے باہر نکلے۔ اس موقع پر اسرائیلی پولیس کی طرف سے صہیونیوں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی گئی تھی۔
صہیونی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر یہ دھاوے ایک ایسے وقت میں بولے جا رہے ہیں جب دوسری طرف ہزاروں فلسطینی نمازی قبلہ اوّل کی بندش کے خلاف باب الاسباط کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے قبلہ اوّل کے محافظوں کو اور احتجاج کرنے والے فلسطینیوں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
