• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

الخلیل میں 2002ء کے بعد صیہونی آباد کاروں کے لیے 31 مکانوں کی تعمیر کی منظوری

بدھ 18-10-2017
in فلسطین
0
0Pala8448
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں صیہونی آباد کاروں کے لیے اکتیس نئے مکانات تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اسرائیل کی صیہونی آباد کاری مخالف غیر سرکاری تنظیم’’ اب امن‘‘ نے سوموار کو ایک بیان میں اس فیصلے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل کی ایک کمیٹی نے 2002ء کے بعد پہلی مرتبہ الخلیل میں صیہونی آباد کاروں کے لیے ان مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق منگل اور بدھ کو اسرائیل کی ایک منصوبہ بندی کونسل کا اجلاس متوقع ہے اور اس کے ایجنڈے میں مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم صیہونی بستیوں میں مزید دوہزار سے زیادہ مکانوں ( یونٹوں) کی تعمیر کے منصوبوں پر غور شامل ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ ہفتے دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی آباد کاروں کے لیے تقریباً چار ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا تھا ۔ ایک اسرائیلی عہدہ دار کے مطابق الخلیل میں بھی نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے اور صیہونی آباد کاروں کے لیے مختلف مراحل میں 3736 نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی جائے گی۔

اس کے بہ قول 2017ء کے دوران میں تقریباً 12000 نئے مکانات کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی مختلف مراحل میں منظوری دی جارہی ہے۔ یہ تعداد 2016ء کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ الخلیل میں اس وقت دو لاکھ کے لگ بھگ فلسطینی آباد ہیں اور شہر کے قلب میں 800 صیہونی آباد کاروں کو لابسایا گیا ہے۔ان کی قلعہ نما بستیوں کے تحفظ کے لیے اسرائیلی فوج کی بھاری نفری تعینات ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما اپنے دورِ حکومت میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی آباد کاروں کے لیے تعمیرات پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے لیکن ان کے جانشین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ضمن میں اسرائیل کو کسی قسم کے دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔اس لیے اس نے کھلے بندوں صیہونی آباد کاری کے منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار تیز کردی ہے۔

اسرائیل نے 1992ء کے بعد اس سال کے دوران میں اب تک صیہونی آباد کاروں کے لیے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مکانوں کی تعمیر کے بڑے منصوبوں پر کام شروع کیے ہیں جبکہ اس کو عالمی برادری کی جانب سے دباؤ کا بھی سامنا ہے اور اس نے متعدد مرتبہ خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کے صیہونی آباد کاری کے منصوبے سے تنازع کے دو ریاستی حل کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کو صیہونی آباد کاروں کی جانب سے نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے شروع کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ یہی آباد کار ان کی انتہا پسند جماعت اور ا س کے اتحادیوں کا ووٹ بنک بھی ہیں اور ان کی بدولت ہی انھیں پارلیمان میں معمولی اکثریت حاصل ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس ،غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے بعد میں بیت المقدس کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اس اقدام کو امریکا سمیت عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے اور اس کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixnebluspalestineparisramallahThirdIntifadatrumpUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombieالخلیل میں 2002ء کے بعد صیہونی آباد کاروں کے لیے 31 مکانوں کی تعمیر کی منظوری
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.