مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے وسط میں واقع صیہونی آباد کاروں کی بستی میں توسیع کی منظوری دی ہے اور وہاں 176 نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے اجازت نامے جاری کردیے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کی بلدیہ کی خاتون ترجمان نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ شہر کی منصوبہ بندی کمیٹی نے اس منصوبے کی منظوری دی ہے۔ فلسطینیوں نے اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اس کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ان نئے مکانوں کی تعمیر سے صیہونی بستی نیف زیون میں صیہونی آباد کاروں کے مکانوں کی تعداد تین گنا ہوجائے گی۔ مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے جبل المکبر میں واقع یہ بستی فلسطینیوں کے مکانوں میں گھری ہوئی ہے اور اس وقت وہاں صیہونی آباد کاروں کے 91 مکانات ہیں۔
یروشیلم کے میئر نیر برکات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ہم برسر زمین اقدامات کے ذریعے شہر کو اکٹھا کررہے ہیں‘‘ لیکن فلسطینیوں نے اپنی سرزمین ہتھیانے کے لیے اس طرح کے اقدامات کی مذمت کردی ہے۔
تنظیم آزادیِ فلسطین ( پی ایل او) کے رکن واصل ابو یوسف نے جبل المکبر میں اسرائیل کے تعمیراتی منصوبے کو عالمی برادری کے ان تمام مطالبات کے لیے ایک چیلنج قرار دیا ہے جن میں صیہونی آباد کاری کو روکنے پر زوردیا جارہا ہے۔
اسرائیل نے گذشتہ ہفتے دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی آباد کاروں کے لیے تقریباً چار ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا تھا ۔ الخلیل میں بھی 31نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے ۔ان کے علاوہ غرب اردن میں صیہونی آباد کاروں کے لیے مختلف مراحل میں 3736 نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی جائے گی۔
