فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز اسرائیلی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں 171 یہودی مختلف ٹولیوں کی شکل میں’باب السلسلہ‘اور باب المغاربہ سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے۔ ان میں 160 سول یہودی آباد کار،10 یہودی طلباء، انٹیلی جنس اداروں کے تین اہلکار اور 8 اسرائیلی صحافی قبلہ اوّل میں داخل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق دسیوں صیہونی آبادکار بدھ کی صبح مسجد الاقصی میں داخل ہو گئے۔ صیہونی آبادکاروں کے اس اشتعال انگیز اقدام پر مسجد کے صحن میں موجود فلسطینیوں کا غصہ بھڑک اٹھا۔ صیہونی آباد کاروں کے ہاتھوں مسجد الاقصی کی ایسی حالت میں بےحرمتی ہوئی ہے کہ انھوں نے گذشتہ چند روز کے دوران اس مسجد پر بارہا حملہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ صیہونی حکومت مسلمانوں کے اس مقدس مقام کا تشخص ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مسلمانوں کے قبلہ اوّل کو یہودیوں کا مرکز بنایا جاسکے۔
عینی شاہدین کے مطابق یہودی آبادکاروں کی آمد سے قبل ہی اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے تمام دروازوں بالخصوص مراکشی دروازے کو محاصرے میں رکھا تھا اور فلسطینی نمازیوں کو اس دروازے کی طرف جانے سے سختی سے منع کردیا گیا تھا۔ یہودی آبادکاروں اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی فورسز نے فلسطینی نمازیوں کو یہودی آباد کاروں سے دور رکھنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا۔
