فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلال احمر فلسطین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’انتفاضہ آزادی القدس‘ کے دوران گذشتہ روز غرب اردن، غزہ اور القدس میں 170فلسطینی زخمی ہوئے۔ ان میں سے66 کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ تحریک انتفاضہ آزادی القدس کے دوران 5 کو براہ راست فائرنگ سے نشانہ بنایا گیا جب کہ 18 فلسطینی ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہوئے۔ غرب اردن اور بیت المقدس میں جب کہ 60 فلسطینی غزہ میں زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی آبادیوں اور صیہونی کالونیوں کو ملانے والے نقاط تماس پر فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج میں جھڑپیں ہوئیں۔
نابلس شہر میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران حورہ کیمپ کے قریب ایک فلسطینی صحافی سمیت کئی شہری زخمی ہوگئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے صحافی کو علاج کے لیے رفیدیا اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اسے اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ مظاہروںÂ اور اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد کی کوریج کررہا تھا۔ فلسطینیوں کے احتجاج اور اسرائیلی فوج کے تشدد کے باعث عورتا کے علاقے میں کئی گھنٹے ٹریفک جام رہی۔
غرب اردن کے دوسرے شہروں جنین، رام اللہ، طلوکرم، الخلیل، بیت لحم اور سلفیت میں بھی القدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
مظاہروں کے دوران فلسطینی شہریوں نے صیہونی فوج پر سنگ باری کی اور ان پر پٹرول بموں سے بھی حملے کیے۔ دوسری طرف سے اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کی شیلنگ، دھاتی گولیوں کا استعمال اور صوتی بموں سے حملے کیے گئے۔
اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی زخمی ہوئے۔ ان میں سے بعض کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی جب کہ دسیوں فلسطینیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینی مظاہرین پر تشدد کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے۔ ان فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج کی طرف سے براہ راست گولیاں ماری گئیں۔ ہفتے کے روز بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ایک درجن فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
غزہ کی پٹی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوگئے۔
