فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہداء فاؤنڈیشن کے مطابق اسیر نہار احمد عبداللہ السعدی کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس سے ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسیر طویل ترین اسیری کے دوران کئی امراض کا شکار ہوا۔ اس وقت اسے معدے، کمر اور کئی دوسری بیماریوں کی تکلیف ہے۔ وہ تین سال مسلسل قید تنہائی میں رہا اور اس دوران اسے اس کے اہل خانہ سے ملنے نہیں دیا گیا۔
عبداللہ السعدیی کو اسرائیلی فوج نے 15 ستمبر 2003ء کو جنین شہر سے حراست میں لیا تھا۔ اس پر اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ سے تعلق سمیت کئی دوسرے الزامات عائد کیے گئے اور ان الزامات میں اسے قید کی سزا سنائی گئی۔ اسیر سعدی پر الزام تھا کہ اس نے 19 مئی 2003ء کو ایک فدائی حملے میں حملہ آور خاتون ھبہ دراغمہ کی مدد کی تھی۔ اس حملے میں چار صہیونی ہلاک اور 76 زخمی ہوگئے تھے۔ السعدی کو اس کیس میں چار بر عمر قید اور 20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
