بیت لحم – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) صہیونی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہروں میں فلسطینی شہریوں کے خلاف پکڑ دھکڑ کی نئی اور ظالمانہ کارروائیاں شروع کی ہیں جن میں اب تک 141 فلسطینیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں میں سے بیشتر غیرقانونی طورپر بیت لحم اور الخلیل میں مقیم تھے۔ صہیونی فوج کے اس بیان کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آیا اسرائیلی حکومت غرب اردن کے جنوبی شہروں کو صہیونی ریاست میں ضمن کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کو اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بیت لحم کے جنوبی علاقے عتصیون میں تلاشی کی کارروائیوں میں غیرقانونی طور پرمقیم 38 فلسطینیوں سمیت 141 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں کئی مشتبہ فلسطینی مزاحمت کار بھی شامل ہیں۔
ادھر عتصیون سے اسرائیل کےایک ذریعے کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں نے دوران بیت لحم سے غیرقانونی طورپر مقیم فلسطینیوں کے خلاف فوج کے کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ کریک ڈاؤن ان فلسطینیوں کے خلاف ہے جو بغیر اجازت کے سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں داخل ہو رہے ہیں۔
