بیت لحم (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک فوجی عدالت سے تیرہ سالہ فلسطینی بچے کو قید اور جرمانے کی ظالمانہ سزا کے خلاف فلسطینی شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ کل جمعرات کو فلسطینی شہریوں جن میں بڑی تعداد بچوں پرمشتمل تھی نے ننھے فلسطینی اسیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اس کےگھرکے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم الدھیشہ پناہ گزین کیمپ میں فلسطینی شہریوں نے جمع ہو کر 13 سالہ عبدالرؤف انور البلعاوی کو سنائی گئی 4 ماہ قید اور 4000 شیکل جرمانے کی سزا کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں انور البلعاوی کی تصاویر، بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرÂ البلعاوی کے ساتھ مکمل ہمدردی، یکجہتی اور اس کی حمایت پر مبنی نعرے درج تھے جب کہ صیہونی ریاست کے خلاف اور بچے کو دی جانے والی قید اور جرمانے کی سزا کے خلاف بھی نعرے تحریر کیے گئے تھے۔
مظاہرے کے دوران شہداء اور اسیران کے اہل خانہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے تیرہ سالہ البلعاوی کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے تیرہ سالہ البلعاوی کو 10 دسمبر 2017ء کو انتہائی ظالمانہ انداز میں شمالی بیت لحم میں ایک احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے کی پاداش میں حراست میں لیا تھا۔ اس کارروائی میں البلعاوی کے ایک زخمی بھائی علاء البلعاوی کو بھی گرفتارکرلیا گیا تھا۔
بعد ازاں اسرائیلی فوجی عدالت نے البلعاوی کو چار ماہ قید اور چار ہزار شیکل جرمانہ کی سزا کا حکم دیا تھا۔
