مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں یہودیوں کے مذہبی تہوار’ایسٹر‘ کی ہفت روز مذہبی تقریبات کے دوران بڑی تعداد میں یہودیوں نے قبلہ اوّل کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ایسٹر کی تقریبات کی آڑ میں 1200 یہودی شرپسند قبلہ اوّل میں داخل ہوئے اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں مقدس مقام کا تقدس پامال کیا۔
صرف ایک اتوار کے روز اسرائیلی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں517 صہیونی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ پردھاوا بولا اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں قبلہ اوّل کی بے حرمتی کا ارتکاب کیا تھا۔فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’ایسٹر تہوار‘ کے موقع پر اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے صہیونی آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کی کھلی چھٹی دی گئی تھی۔ اس دوران اسرائیلی فوج اور پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں صہیونی اشرار مسجد اقصیٰ میں گھس کر تلمودی تعلیمات کی روشنی میں مذہبی رسومات ادا کرتے رہے۔
اس دوران بارہ سو صہیونی مراکشی دروازے (باب المغاربہ) کے راستے مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے۔ Â صہیونی شرپسند قبلہ اوّل میں داخل ہونے کے بعد مسجد کے اندرونی اطراف میں گھومتے اور سیٹیا بجاتے رہے۔ Â کئی گھنٹے مسجد کے اندر گھومنے کے بعد مسجد کے ’باب السلسلہ‘ سے باہر نکلتے رہے۔
صہیونی آباد کاروں کے یہ دھاوے ایک ایسے وقت میں جاری رہے جب کہ دوسری جانب قبلہ اوّل کی جگہ مزعومہ ہیکل سلیمانی کی پرچارک تنظیموں نے یہودیوں پر زور دیا ہے کہ وہ "ایسٹر” تہوار کے موقع پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں "جبل ہیکل” (مسجد اقصیٰ) میں داخل ہو کرمذہبی رسومات ادا کریں۔
صہیونی آباد کار مسجد میں گھسنے کے بعد باب الرحمۃ تک جا پہنچے جہاں فلسطینی محافظوں اور صہیونی شرپسندوں کے درمیان کھینچا تانی بھی ہوئی۔ تاہم فلسطینی محافظ یہودیوں کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اتوار کو علی الصباح ہی سے مسجد اقصیٰ کےتمام داخلی اور خارجی راستوں پر اسرائیلی فوج کے مسلح دستے تعینات تھے۔ صہیونی آبادکاروں کی رہنمائی کے لیے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرنے والوں میں یہودی ربی بھی شامل تھے جنہوں نے اجتماعی عبادات کی ادائیگی کے لیے "جبل ہیکل” میں آمد ورفت جاری رکھنے Â پر زور دیا۔
خیال رہے کہ صہیونی مسجد اقصی کی تاریخ مسخ کرتے ہوئے اس کے لیے "جبل ہیکل” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
گذشتہ روز سرائیلی حکام نے بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے 12 فلسطینی شہریوں کے پرانے القدس شہر اور مسجد اقصیٰ میں 80 روز تک داخلے پر پابندیاں عائد کی جس پر فلسطینی عوامی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔
