فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ستمبر کے دوران 833 یہودی آباد کاروں، 281 یہودی طلباء اور متعدد انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آڑ میں اس کی بے حرمتی کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ پر دھاوؤں کے دوران اسرائیلی فوج، پولیس اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کی جانب سے یہودی آباد کاروں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی گئی۔ اس دوران اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کے 50 اہلکاروں نے بھی مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے سے اندر داخل ہو کر مذہبی رسومات ادا کیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہ ستمبر میں جہاں ایک طرف یہودی اشرار کی قبلہ اوّل میں آمد ورفت کا سلسلہ روز مرہ کی بنیاد پر جاری رہا وہیں دوسری جانب فلسطینی نمازیوں اور خواتین پر صہیونی فوج کی پابندیاں بھی برقرار رہیں۔ فلسطینی شہریوں کی نام نہاد تلاشی اور شناخت کی آڑ میں انہیں مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی سے روک گیا۔
