مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے چونکا دینے والی صیہونی ریاست کی ایک خطرناک سازش کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ صیہونی ریاست نے اندرون فلسطین کے 1000 قصبوں اور دیہاتوں میں فلسطینیوں کوسکونت اختیار کرنے سے محروم کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی تجزیہ نگار حنا سوئد نے ایک بیان میں بتایا کہ صیہونی ریاست نے سنہ 1948ء کے دوران قبضے میں لیے گئے فلسطینی قصبوں میں فلسطینیوں کورہائش اختیار کرنے سے روکنے کی نسل پرستانہ پالیسی اپنا رکھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ جن ایک ہزار قصبوں اور دیہاتوں میں فلسطینیوں کو رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں وہ صرف صیہونی آباد کاروں کے لیے مختص ہیں۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے منگل کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اب تک حکومت نے کسی قانون کے بغیر ہی فلسطینیوں کو ایک ہزار قصبوں میں رہائش اختیار کرنے سے روک رکھا تھا۔ اب اس حوالے سے قانون سازی بھی کی جار ہی ہے۔ اسرائیلی کنیسٹ کی قومی کمیٹی نے نئے مسودہ قانون کی تیاری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کیا ہے۔
اس مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے ایک ہزار دیہات میں فلسطینیوں کو رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
فلسطینیوں کو رہائش اختیار کرنے سے محروم رکھنے کی سازشیں نئی نہیں۔ اسرائیل نے سنہ 1996ء میں شمالی فلسطین کے علاقے باقہ میں ’کتسیر‘ کے مقام پر ایک فلسطینی خاندان کو محض اس وجہ سے رہائش اختیار کرنے سے روک دیا کہ وہ عرب تھے۔
فلسطینی تجزیہ نگار ھنا سوئد کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے ہی ملک میں رہائش اختیار کرنے سے منع کرنا اسرائیل کی نسل پرستی کی بدترین مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اس سازش کا اصل مقصد فلسطینی شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے انہیں فلسطین سے نکلنے پر مجبور کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیلی کنیسٹ میں قانون منظور ہوجاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ان ایک ہزار قصبوں میں پہلے سے رہائش پذیر فلسطینیوں کو بھی وہاں سے نکال باہر کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
