فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کو القدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیے جانے کے اعلان کے ایک سو دن مکمل ہونے پر ملک گیر احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے شہر شہر امریکا اور اسرائیل کے خلاف ریلیاں نکالیں۔ اس موقع پر اسرائیلی اور امریکی پرچم نذرآتش کرنے کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پتلے بھی جلائے گئے۔
بیت المقدس کو اسرائیلی فوج نے چھاؤنی میں تبدیل کررکھا تھا۔ جگہ جگہ تعینات بھاری نفری نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش کی تاہم اس کے باجود 50 ہزار فلسطینی قبلہ اوّل میں نماز جمعہ کی ادائیگی میں کامیاب رہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس، مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں بیت لحم، رام اللہ، الخلیل، سلفیت، نابلس، قلقیلیہ اور غزہ کی پٹی میں ٹرمپ کے اعلان القدس کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔
تمام شہروں میں امریکی اعلان القدس کے 100 دن مکمل ہونے پر نکالی گئی ریلیوں کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی، ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کی شیلنگ کے دھاتی گولیوں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوگئے۔
فلسطینی شہروں میں ٹرمپ کے اعلان القدس کے خلاف نکالی جانے والی ریلیوں سے خطاب میں مقررین نے فلسطینیوں کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
