فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے ان خیالات کا اظہار مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہاکہ مسجد اقصیٰ پر دھاؤے بولنے والے یہودیوں کو صہیونی حکومتوں کی براہ راست مدد حاصل رہی ہے۔ آج بھی اسرائیلی حکومت اور اس کے تمام ریاستی ادارے ایک منظم حکمت عملی کے تحت یہودیوں کوقبلہ اوّل میں داخل ہونے کی ہرممکن مدد فراہم کررہے ہیں۔
الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ پوری دنیا فلسطین میں یہودی توسیع پسندی کو جرم قرار دیتی ہے۔ یورپی یونین کی طرف سے واویلا کرنے کے باوجود صہیونی ریاست غرب اردن اور بیت المقدس میں توسیع پسندی کی سرگرمیوں پر عمل پیرا ہے۔ اب امریکا کا نیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہودی آباد کاری کی حمایت میں کھڑا ہوگیا ہے۔
الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کے حقوق پر سودے بازے کے لیے سازشی عناصر کی ریشہ دوانیاں بری طرح ناکام رہی ہیں۔ نام نہاد امن مذاکرات کا ڈرامہ فلاپ ہوگیا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے بیت المقدس کی مساجد میں اذان پر پابندی عائد کیے جانے کی سازشوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اذان پر پابندی کو مذہبی آزادی پرحملہ قرار دیا۔
خیال رہے کہ کل اتوار کو اسرائیلی کنیسٹ میں ایک نیا مسودہ قانون بحث کے لیے پیش کیا جائے گا جس میں سفارش کی جائے گی کی پولیس بیت المقدس کی تمام مساجد میں اذان دینے پر پابندی عائد کرے۔
الشیخ صبری نے کہا کہ بیت المقدس کی فضائیں پندرہ صدیوں سے اذان کی آواز سن رہی ہیں۔ صہیوںیوں کی سازشوں سے بیت المقدس میں اذان پر پابندی لگانے کی تمام تدابیرناکام ثابت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست ’انسداد شور شرابہ‘ قانون کے تحت اذان پر پابندی لگانے کی سازش کررہی ہے۔ اذان کی آواز کو شو شرابہ قرار دینے والے بھول جاتے ہیں کہ فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنے والے بلڈوزر کس قدر شور شرابے اور آرام میں خلل کا موجب بنتے ہیں۔
