فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 16 سالہ شہیدہ فاطمہ طقاطقہ کا جسد خاکی ہفتےکی شام اس کے ورثاء کےحوالے کیا گیا تھا۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق شہیدہ کا جسد خاکی بیت جالا اسپتال Â سے ایک قافلے کی شکل میں بیت لحم شہر میں لایا گیا جہاں اس کے آخری دیدار کے لیے عوام الناس کا جم غفیر امڈ آیا تھا۔
خیال رہے کہ 16 سالہ فاطمہ جبریل عاید طقاطقہ کو غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم میں بیت فجار کے مقام پر گولیاں مار کر شدید زخمی کیا گیا تھا۔ صہیونی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ فاطمہ نے اپنی گاڑی اسرائیلی فوجیوں پر چڑھانے کی کوشش کی تھی جس پر اسے فائرنگ کا نشانہ بنایا تاہم عینی شاہدین نے صہیونی فوج کا دعویٰ مسترد کردیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق فاطمہ جبریل کو اسرائیلی فوج نے 15 مارچ کو دوار عتصیون چوک میں گولیاں ماریں جس کے بعد اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیاگیا تھا۔ وہ دو ماہ تک مسلسل زیرعلاج رہی تاہم گذشتہ روز دم توڑ گئی تھی۔
