غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) ڈیموکریٹک محاذ برائے آزادی فلسطین نے تنظیم آزادی فلسطین سے اسلو معاہدے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے جس پر فلسطین کی خودمختار انتظامیہ اور اسرائیل نے سنہ انیس سو ترانوے میں دستخط کئے تھے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈیموکریٹک محاذ برائے آزادی فلسطین نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسلو معاہدہ، صرف بیت المقدس کو صیہونی و یہودی شہر بنانے، فلسطین کے مختلف علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کی وطن واپسی کے حق کو نظرانداز کئے جانے کا ایک بہانہ ہے اس لئے فلسطین کی خودمختار انتظامیہ کو چاہئے کہ اسلو معاہدے کو منسوخ کر دے۔اس بیان میں تمام عرب و اسلامی ملکوں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بیت المقدس کے دفاع کے لئے اپنے اقدامات کو مکمل کریں۔دریں اثنا انّیس سو اڑتالیس کے مقبوضہ فلسطین کی اسلامی تحریک کے نائب سربراہ کمال خطیب نے اعلان کیا ہے کہ غرب اردن کے علاقوں کو مقبوضہ فلسطین میں شامل کرنے کا لیکوڈ پارٹی کا فیصلہ، فلسطین کی خودمختار انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس اور ان تمام لوگوں کے منھ پر زوردار طمانچہ ہے جنھوں نے اسلو معاہدے کے بارے میں محمود عباس کے ناکام موقف کی حمایت کی تھی۔
