مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے فلسطینی جماعتوں’حماس‘ اور فتح کے درمیان مصر کی ثالثی کے تحت طے پایا معاہدہ خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی قوم کو قبلہ اوّل کے خلاف جاری صہیونی ریشہ دوانیوں سے خبردار رہنا ہوگا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مسجد اقصیٰ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں ممتاز فلسطینی عالم دین نے کہا کہ فلسطینی اسکولوں میں اسرائیلی ریاست کا تیارکردہ نصاب تعلیم فلسطینی بچوں کو پڑھانا شرعا حرام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اعلانیہ اور در پردہ قبلہ اوّل کے خلاف سازشیں کررہا ہے۔ فلسطینی قوم اور پوری مسلم امہ کو صہیونی دشمن کی طرف سے تیسرے اسلامی مقدس مقام کو لاحق خطرات اور سازشوں پر خبردار رہنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل قبلہ اوّل پر اپنی بالادستی قائم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ عالم اسلام کو ناپاک صہیونیوں کے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے مذموم عزائم اور ارادوں کو ناکام بنانا ہوگا۔
اپنے ایک حالیہ فتوے پر بات کرتے ہوئے الشیخ صبری نے کہا کہ جو شخص صہیونی ریاست کے وضع کردہ نصاب کو فلسطینی اسکولوں میں پڑھائے گا وہ گنہگار ہوگا۔ ایسا کرنا صہیونی ریاست کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ کسی فلسطینی کے لیے اپنے بچوں کو اسرائیلی اسکولوں میں پڑھانے کے لیے بھیجنا بھی جائز نہیں۔
الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ فلسطینی اسکولوں میں اسرائیلی ریاست کا وضع کردہ نصاب تعلیم لاگو کرنا اسلام، ہماری اقدار، اسلامی اور فلسطینی تاریخی کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ صہیونی ریاست یہی چاہے کہ تمام فلسطینی اسکولوں میں یا تو اس کا تیار کردہ نصاب تعلیم رائج کیا جائے یا فلسطینی بچے اسرائیلی اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں۔ مگر ایسا کرنا فلسطینی قوم کے ساتھ غداری ہے۔
