نماز کے بعد فلسطینی شہریوں نے’لبیک یا اقصیٰ لبیک‘ کے نعرے لگائے اور اسرائیلی ریاستی دہشت گردی اور قبلہ اوّل پر پابندیوں کی مذمت کی۔ صہیونی فوج نے فلسطینی نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے حسب معمول ان پر لاٹھی چارج کیا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطینی شہری باب الاسباط میں ابھی نماز عشاء ادا کررہے تھے کہ صہیونی فوج کی بھاری نفری نے انہیں گھیرے میں لے لیا اوران پر آنسوگیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور دھاتی گولیوں سے حملے شروع کر دیے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج نے نہتے نمازیوں پر دھاتی گولیوں، آنسوگیس کی شیلنگ، صوتی بموں اور دیگر آلات سے حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد نمازی زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کی دہشت گردی اور غنڈہ گردی کے باوجود شہری قبلہ اوّل کے باہر دھرنا جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق نمازوں کے بعد فلسطینی شہریوں نے قبلہ اوّل کو پنجہ یہود سے آزاد کرانے کے لیے گڑ گڑا کر دعائیں کی۔ باب الاسباط کے علاوہ بیت المقدس کے دیگر اہم مقامات اور مسجد اقصیٰ کے اطراف میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہری گھروں سے نکل کر مسجد اقصیٰ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کھلے میدانوں میں نماز ادا کی۔
گذشتہ روز باب المجلس، باب السلسلہ اور باب الساھرہ، باب ملک الفیصل اور باب الحطہ کے مقامات پر بھی فلسطینی شہریوں نے نمازیں ادا کیں۔
