فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اپنے ایک بیان میں ’عرب پولیٹیکل الائنس‘ کے پلیٹ فارم سے اسرائیلی کنیسٹ کے منتخب رکن مسعود غنائم نے کہا کہ وہ قانونی ماہرین نے فلسطینی مساجد میں پابندی کے متنازع اسرائیلی قانون کو عالمی اداروں میں اٹھانے کے لیے صلاح مشورہ کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مسعود غنائم کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب اسرائیلی پارلیمنٹ میں آج اتوار کو دوبارہ متنازع قانون پربحث جاری ہے۔ تازہ بحث الحریدیہ یہودی فرقے کے مطالبے پر شروع کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی نے اس قانون کو منظورکرلیا تو اس پر ابتدائی رائے شماری کے لیے آئندہ بدھ کو اس رائے شماری کی جائے گی۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی شہر بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں قائم تمام مساجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان دینے پر پابندی کا ایک قانون منظور کیا تھا جس پر نہ صرف فلسطین بلکہ پورے عالم اسلام کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فلسطین کے مختلف شہروں میں اسرائیل کے اس متنازع قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
