غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیلوں میں سال ہا سال تک قید و بند کی صعبوتیں اٹھانے والے فلسطینی شہریوں کے اہل خانہ نے ایک بار پھر فلسطینی اتھارٹی سے اسیران کی مالی مراعات
بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے وزیر برائے محنت مامون ابو شھلا کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے والے فلسطینی شہریوں نے اسیران کی ختم کی گئی مالی مراعات فوری بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ اسیران کو ملنے والے وظائف کی بحال تک دھرنا جاری رکھیں گے۔
سابق فلسطینی اسیران کی کمیٹی کے ترجمان محمد الدیراوی نے کہا کہ جب سے اسیران کے اہل خانہ نے دھرنا دیا ہے فلسطینی اتھارٹی کے کسی سرکردہ عہدیدار نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ایسے لگتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو ہمارے احتجاج کی کوئی پرواہ تک نہیں۔ مگر ہم اپنا احتجاج اس وقت تک جاری رکھیں جب تک اسیران کے ختم کیے گئے وظائف بحال نہیں کیے جاتے۔
الدیراوی نے تحریک فتح کی قیادت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان کے مطالبات کو فلسطینی اتھارٹی کے سامنے پیش کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے 277 Â سابق اسیران کو ملنے والی مالی مراعات ختم کردی تھیں۔ یہ سابق اسیر سنہ 2010ء کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی ایک ڈیل کے تحت رہا ہوئے تھے۔
