فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امداد منقطع کرنے کی دھمکی یا اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نِکی ہیلی کی جانب سے عالمی تنظیم اونروا کی فنڈنگ روک دینے کی دھمکی پر عمل ہوا تو فلسطینی اتھارٹی سب سے زیادہ متاثر فریق نہیں ہو گی کیوں کہ امداد کا زیادہ تر حصّہ درحقیقت فلسطینی اتھارٹی کے پاس نہیں پہنچتا ہے۔
سال 1993 میں اوسلو معاہدے پر دستخط کے بعد سے واشگنٹن فسلطینیوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر کے قریب پیش کرتا ہے۔ اس رقم کا بڑا حصّہ USAID کے ذریعے ترقیاتی اور اقتصادی منصوبوں میں سرماریہ کاری کی صورت میں ہوتا ہے جب کہ بہت تھوڑا حصّہ فلسطینی اتھارٹی کے ہاتھ میں آتا ہے۔ مثلا سال 2017 کے لیے امریکی سپورٹ کی رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں منصوبوں کے لیے 36.3 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی گئی جب کہ فلسطینی اتھارٹی کا حصّہ صرف 3.6 کروڑ ڈالر تھا۔ جہاں تک اونروا تنظیم کا تعلق ہے تو امریکا اس بین الاقوامی تنظیم کو سالانہ 36.8 کروڑ ڈالر فنڈ دیتا ہے۔ ان میں 15.2 کروڑ ڈالر براہ راست فنڈنگ جب کہ 21.6 کروڑ ڈالر منصوبوں کی فنڈنگ کی صورت میں ہوتے ہیں۔
ایک فلسطینی ذمّے دار نے بتایا کہ واشنگٹن کی جانب سے مالی امداد منقطع کرنے بالخصوص اونروا کی فنڈنگ روک دینے پر عمل درامد کا نتیجہ فلسطین ، اردن ، لبنان اور شام میں واقع کیمپوں میں پناہ گزینوں کے حالات ابتر ہونے کی صورت میں سامنے آئے گا.. تاہم حقیقی المیہ غزہ پٹی میں ہو گا جہاں واقعتا انسانی صورت حال انتہائی خراب ہے۔
اسرائیلی ماہرین کے بھی تجزیے کے مطابق غزہ میں 2014 کی آخری جنگ کے اسباب میں ایک وجہ محصور غزہ پٹی میں مالی اور انسانی بحران تھا۔ اونروا کی جانب سے ترقیاتی اور انسانی امداد کے منصوبے روک دیے گئے تو آئندہ جنگ کے لیے اُلٹی گنتی کا آغاز ہو سکتا ہے۔
ایک جانب ٹرمپ کے اعلانِ قدس کے بعد سے اسرائیل نسبتا پرسکون حالت میں ہے اور وہ دو خود بھی مذاکرات اور دو ریاستی حل کی جانب نہیں جانا چاہتا۔ تاہم دوسری طرف اسرائیل ایک دوسرے امکان کے واقع ہونے کے حوالے سے پریشانی کا شکار بھی رہے گا۔ وہ ہے فلسطینی اتھارٹی کی تحلیل اور اوسلو معاہدوں کی منسوخی..
عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل کو فلسطینی اراضی پر قبضے کی قیمت چکانا پڑے گی۔ سکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی طور پر قبضے کی براہ راست ذمّے داری اسرائیل پر آن پڑے گی۔ معلوم رہے کہ اس ڈرامائی اقدام کی تجویز فلسطینی مرکزی کونسل کی میز پر موجود ہے جو رواں ماہ کی 14 اور 15 تاریخ کو رام اللہ میں اپنا اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ اس اجلاس میں حماس اور اسلامی جہاد کے علاوہ دیگر گروپوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اقدام کیا جائے گا یا نہیں۔ اس لیے کہ یہ تنازع کو واقعتا بنیادی طور پر اپنی اولین پوزیشن پر واپس لے جائے گا۔ اس طرح فسلطینی اسرائیلی تعلق ممکنہ طور پر بدترین اور خطرناک ترین شکل میں سامنے آ سکتا ہے۔
