مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کی سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پائے مفاہمتی معاہدے پر مقبوضہ بیت المقدس کی نمائندہ تنظیموں نے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا ہے مگر ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر مفاہمتی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں تویہ پوری قوم اور مسئلہ فلسطین کے لیے بہت بڑا سانحہ ثابت ہوگا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کی مقامی فلسطینی قوتوں اور نمائندہ تنظیموں نے القدس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پوری قوم مفاہمتی مساعی میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم نے رواں سال قبلہ اوّل پر صہیونی یلغار کا مقابلہ کرکے دشمن کے تکبر اور طاقت کے گھمنڈ کو شکست سے دوچار کرکے فتح ونصرت کا باب رقم کیا۔ اسی طرح فلسطینی قوم کی یہ دوسری بڑی کامیابی ہے کہ آج فلسطینی قوتیں متحد ہو رہی ہیں۔بیت المقدس کے سرکردہ سماجی رہنما راسم عبیدات نے کہا کہ مصر کی میزبانی میں مذاکرات کے ذریعے اتحاد کے لیے کوشاں تمام فلسطینی قوتوں سے ہمارا پرزور مطالبہ ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ اور القیامۃ چرچ کے نام پر متحد ہوجائیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری فلسطینی قومÂ جسد واحد ہے۔ ہمیں اپنے باہمی اختلافات کو دفن کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد کی فضاء پید اکرنا ہوگی۔ ہمارا مستقبل ایک اور منزل بھی ایک ہے۔ اس لیے اتحاد ہی ہمارا عنوان ہونا چاہیے۔
فلسطینی رہنما اور رکن پارلیمان عبداللہ صیام نے کہا کہ قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے تمام جماعتوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان تمام رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا جو ماضی میں فلسطینیوں میں قومی یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں میں اتحاد پوری قوم کا درینہ خواب ہے۔ دس سال تک فلسطینی قوم انتشار کی کیفیت میں رہی۔ دوسری جانب صہیونی قوتیں مل پر جسد فلسطین کو بھیڑیوں کی طرح نوچتی رہیں۔ صہیونی دشمن نے فلسطینی قوم میں اتحاد کے فقدان کو اپنے مذموم مقاصد کے فروغ اور ان کی توسیع کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
