فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے دو ماہ قبل بیت المقدس میں قلندیہ قصبے میں 11 مکانات کے 30 رہائشی فلیٹس مسمار کردیے تھے جس کے نتیجے میں تین درجن کے قریب فلسطینی خاندان بے گھر ہوگئے تھے۔ صہیونی فوج کی جانب سےمسمار کیے گئے مکانات کے متاثرین اور القدس کے دیگر شہریوں نے مسمار شدہ مکانات کے ملبے پر احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔
گذشتہ روز قبلہ اوّل کے امام وخطیب الشیخ عکرمہ صبری نے بھی قلندیہ دھرنے میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے صہیونی فوج کی غںڈہ گردی کے شکار فلسطینی شہریوں کو یقین دلایا کہ پوری قوم قلندیا کے بے گھر افراد کے ساتھ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قلندیہ میں فلسطینیوں کے مسمار کیے گیے مکانات دوبارہ تعمیر کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ القدس اور فلسطین کے دوسرے شہروں میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری دراصل یہودی توسیع پسندی کی سازشوں کا حصہ ہے۔ اسرائیل نام نہاد بہانوں کی آڑ میں بیت المقدس میں فلسطینیوں پرعرصہ حیات تنگ کررہا ہے۔ مکانات مسماری اسی ظالمانہ سازش کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے القدس میں صہیونی بلدیہ کے حکم پر فلسطینی شہریوں کے کئی مکانات یہ کہہ کر بلڈوز کردیے تھے کہ یہ مکانات بلدیہ کی اجازت کے بغیر تعمیر کیے گئے ہیں۔ مسمار کیے گئے بعض مکانات تیس سال پرانے تھ
