فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک بیان میں ڈاکٹراحمد بحر نے کہا کہ صہیونی ریاست ایک شیطانی قوت ہے اور شیطانی قوتیں کسی صورت میں اذان اور نماز کو برداشت نہیں کرسکتیں۔ اسرائیل ایک عرصے سے فلسطینی کی مساجد کے خلاف سازشوں کے تانے بانے تیار کررہا ہے۔ کبھی مساجد کو شہید کیا جاتا ہے اور کبھی انہیں ییودیوں کے مذہبی مراکز قرار دے کران پرقبضے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔
ڈاکٹرا حمد بحر نے کہا کہ مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کی یلغار، بیت المقدس میں یہودیت کا فروغ ، فلسطین کے مقدس مقامات پر حملے اور اب مساجد میں اذان دینے پر پابندی صہیونی ریاست ہی نسل پرستانہ سازشوں ہی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے فلسطینی قوم پر زور دیا کہ وہ صہیونی ریاست کی غنڈہ گردی اور اذان پر پابندی کی سازشوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجائیں اور دشمن کی ان شیطانی سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی کابینہ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس میں فلسطین کی مساجد میں اذان دینے پرپابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس قانون میں اذان کو شور وغوغا قرار دے کر لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی عائد کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
