فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صہیونی آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصی کے صحنوں میں دھاوؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران المغاربہ کے مرکزی پھاٹک سے درجنوں آباد کار داخل ہو گئے۔ یہ دھاوا روزانہ دو مرتبہ بولا جاتا ہے اور ہر مرتبہ اس کا دورانیہ دو گھنٹے ہوتا ہے۔
گزشتہ جمعے کے روز حرمِ قدسی میں 3 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد سے مسجد اقصی میں شدید کشیدگی کا ماحول ہے۔ مذکورہ فلسطینیوں نے فائرنگ کر کے دو اسرائیلی پولیس اہل کاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔
واقعے کے بعد اسرائیل نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد اقصی کے دروازوں پر نگرانی کے آلات اور دھاتوں کا انکشاف کرنے والے اسکینر گیٹ نصب کر دیے۔ بیت المقدس کے مسلمانوں نے اس اقدام کو یکسر مسترد کر دیا۔
فلسطینی حکومت نے اسرائیلی حکام کو مسجد اقصی کے ضرر کا مکمل طور پر ذمے دار ٹھہراتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔
فسلطینی وزیراعظم رامی الحمد اللہ نے مسجد اقصی کی بندش، اس میں نماز کی ممانعت اور اس کے داخلی راستوں پر الیکٹرانک اسکینروں کے لگائے جانے کے نتائج سے خبردار کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ شہر میں بین الاقوامی تحفظ کو یقینی بنائے۔
اس سے قبل منگل کی شب بعد نماز عشاء پرتشدد جھڑپوں میں تقریبا 40 فلسطینی زخمی ہو گئے جن میں مسجد اقصی کے خطیب شیخ عکرمہ صبری بھی شامل ہیں۔ وہ بھگدڑ کے دوران زدوکوب کا نشانہ بن گئے۔ صہیونی افواج نے بابِ اسباط کے نزدیک نمازیوں پر آںسو گیش کے شیلوں اور ربر کی گولیوں سے حملہ کر دیا۔
شیخ صبری نے مسجد اقصی کی طرف نکل پڑنے کی دعوت کا اعلان کیا اور باور کرایا کہ اسلامی اوقاف کسی طور بھی مسجد اقصی کے داخلی راستوں سے الیکٹرانک اسکینروں کو ہٹانے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
