فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق رامی الحمد اللہ نکاسیِ آب کے ایک اسٹیشن کے افتتاح کے لیے غزہ پٹی پہنچے تھے۔ اس منصوبے کے لیے 7.5 کروڑ ڈالر کی مطلوبہ فنڈنگ بین الاقوامی بینک، یورپی یونین اور یورپی حکومتوں کی طرف سے کی گئی۔
دوسری جانب فلسطینی صدارتی اتھارٹی نے فلسطینی وزیراعظم اور انٹیلی جنس چیف کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے واقعے کا ذمّے دار حماس تنظیم کو ٹھہرایا ہے۔
ادھر حماس تنظیم نے اپنے ایک بیان میں رامی الحمد اللہ کے قافلے کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مجرمانہ کارروائی غزہ پٹی کے امن و امان کو خراب کرنے کی کوششوں کا حصّہ ہے جس کا مقصد مصالحت اور یک جہتی کی کوششوں پر ضرب لگانا ہے۔ حماس نے سکیورٹی اداروں اور وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ کارروائی کی فوری تحقیققات کی جائیں اور اس کے مرتکب عناصر کو قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے۔
