رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی وزارت خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی امن مندوب جیسن گرین بیلٹ کی طرف سے فلسطینی سرنگوں اور مزاحمت کے حوالے سے جاری کردہ متنازع بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی امن مندوب مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی نہیں بلکہ صیہونی ریاست کی زبان بول رہے ہیں۔ ان کا اسرائیلی فوجی قیادت کے ہمراہ غزہ کے سرحدی علاقوں کا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا غیرجانب دار ثالث کی حیثیت کھو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گرین بیلٹ کی جانب سے فلسطینیوں پر الزامات اور اسرائیل کی طرف داری فلسطینی قوم کے لیے قابل قبول نہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی کئی سال سے ناکہ بندی کررکھی ہے اور وہاں کی دو ملین آبادی کو بھوک اورافلاس سے دوچار کر رکھا ہے۔ فلسطینی قوم کی مشکلات میں اضافے کی امریکی پالیسیوں کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی امن مندوب اگر حقیقی معنوں میں امن کے خواہاں ہیں تو انہیں غزہ کی پٹی کا معاشی محاصرہ ختم کرانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے جانب دارانہ پالیسی کو ترک کرنا ہوگا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی امن مندوب خطے میں دیر قیام امن کے بجائے اسرائیلی ریاست کی طرف داری کررہے ہیں۔ غزہ کی پٹی کے خلاف اسرائیل سنگین جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اسرائیل نے برسلز میں ہونے والے فلسطین کے ڈونرز اجلاس میں اپنے مجوزہ منصوبے پیش کرنے کا اعلان کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ صیہونی ریاست اور امریکا دونوں مل کر فلسطینیوں پر معاشی پابندیاں عائد کرنا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی امن مندوب جیسن گرین بیلٹ نے اسرائیلی فوج کے ہمراہ غزہ کی پٹی کے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران گرین بیلٹ کا کہنا تھا کہ فلسطینی تنظیم حماس غزہ کے عوام کو پانی اور بجلی کی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے وسائل کو راکٹوں کی تیاری اور سرنگوں کی کھدائی پر صرف کررہی ہے۔
حماس نے بھی جیسن گرین بیلٹ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گرین بیلٹ اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے سرپرست ہیں۔
