• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

فلسطینی صدر کا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا ناقابل قبول

اتوار 03-12-2017
in فلسطین
0
0Pala7171
0
SHARES
0
VIEWS

رام اللہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے یروشلیم ( مقبوضہ بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تو اس سے وائٹ ہاؤس کی مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صدر محمود عباس نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یروشیلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے یا وہاں امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کا فیصلہ بالکل ناقابل قبول ہے اور یہ مستقبل میں امن عمل کے لیے ایک خطرہ ہے‘‘۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اسی ہفتے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرسکتے ہیں اور وہ اپنے ایک انتخابی وعدے کو ایفا کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم بھی جاری کردیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی حکام نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر قبول کرسکتے ہیں جس سے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے ان کے ممکنہ فیصلے کی تاخیر کا اثر زائل ہوگا۔ ذرائع‏ کے مطابق امریکہ کو اس سلسلے میں سعودی عرب کی حمایت بھی حاصل ہے سعودی عرب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پس پردہ مختلف قسم کی امریکی اور اسرائیلی سازشوں میں شریک ہے۔

اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے ممالک نے اس وقت تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کے مقبوضہ بیت المقدس پر کنٹرول کے یک طرفہ دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور اس کو متنازع شہر قرار دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی جبکہ سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے گریز کیا تھا۔

اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو یک طرفہ طور پر اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا۔اب وہ تمام شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس پر یہود کا حق ہے جبکہ فلسطینی بیت المقدس کے مشرقی حصے کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دیگر باعث نزاع مسائل میں سے ایک مقبوضہ بیت المقدس بھی ہے۔

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixnebluspalestineparisramallahThirdIntifadatrumpUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombie
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.