فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فلسطین جرنلسٹ فیڈریشن کی طرف سے ’آئی ایف جے‘ میں دائر کردہ شکایت میں مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کے شمال مغربی قصبے کوبر میں ایک فوٹو جرنلسٹ محمد راضی پر تشدد کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
فلسطینی صحافتی تنظیم کی طرف سے درج کردہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینی صحافیوں پر حملوں اور تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور پولیس فلسطینی صحافیوں کو دانستہ طور پرحملوں اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔
فلسطین جرنلسٹ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ وہ صحافیوں سے اسرائیلی فوج کے غیرانسانی سلوک کا معاملہ عالمی فوج داری عدالت میں لے جانے کی تیاری کررہی ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کے ماہرین سے رائے بھی طلب کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل رام اللہ کے قریب کوبر کے مقام پر فلسطینی شہداء کے مکانات کی مسماری کی کوریج کرنے والے ایک فلسطینی صحافی محمد راضی پر اسرائیلی فوج نے تشدد کرکے اس کا کیمرہ توڑ ڈالا تھا۔
فلسطینی پریس کلب کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2016ء کی نسبت 2017ء کی پہلی ششماہی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی صحافتی حقوق کی پامالیوں میں 15 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں فلسطینی علاقوں میں مجموعی طور پر صحافتی حقوق کی پامالیوں کے 228 واقعات رونما ہوئے۔ ان میں 127 واقعات میں اسرائیلی فوج اور 101 میں فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے ملوث ہیں۔
