رام اللہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی محکمہ امور اسیران نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوج کی تحویل میں موجود فلسطینی شہداء کے جسد خاکی ان کے ورثاء کو واپس کرنے کے اپنے سابقہ فیصلے پر نظرثانی کرے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق محکمہ امور اسیران کا کہنا ہے کہ چند ہفتے قبل اسرائیلی عدالت نے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ فوج فلسطینی شہداء کے جسد خاکی روکنے کی مجاز نہیں۔ عدالت نے فوج اور سیکیورٹی اداروں کو چھ ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ فلسطینی شہداء کے جسد خاکی قبضے میں رکھنے کی وضاحت کریں یا انہیں ان کے ورثاء کے حوالے کریں۔پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے دائر درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینی شہداء کے جسد خاکی ان کے لواحقین کو واپس کرنے کے حکم نامے پر عمل درآمد کا حکم معطل کرے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ چھ ماہ کے عرصے کے دوران حکومت اس ضمن میں قانون سازی کرے گی۔ قانون سازی کے بعد عدالت اپنے فیصلے کو تبدیل کردے۔
خیال رہےکہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے اپنے ایک سابقہ فیصلے میں فوج کی تحویل میں موجود تمام فلسطینی شہداء کے جسد خاکی ان کے ورثاء کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسرائیلی انتظامیہ کے پاس فلسطینی شہداء کے جسد خاکی روکے رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے سیکیورٹی اداروں اور حکومت نو چھ ماہ کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ حکومت قانون سازی کرے تاکہ فلسطینی شہداء کے جسد خاکی روکے جانے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ دیا جا سکے۔
