فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بوڑھی خاتون کے چہرے پر نمایاں آثار اپنے اندر ایک تاریخ رکھتے ہیں جس کو کتابیں بیان نہیں کر سکتی ہیں۔ جی ہاں صبحیہ یونس کا بیٹا کریم یونس 35 برسوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہے۔
صبحیہ خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ "اُس روز قابض اسرائیلی فوج نے اُن کے گھر پر دھاوا بول دیا اور فوجیوں نے کریم کی تلاش شروع کردی۔ میں نے اُنہیں آگاہ کیا کہ وہ گھر پر نہیں ہے۔ اُن دنوں وہ اپنی یونی ورسٹی کے نزدیک بئر السبع میں سکونت پذیر تھا”۔ صبحیہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے یونی ورسٹی پر چھاپہ مارا اور کریم کو اُس کی کلاس کی نشست پر سے گرفتار کر لیا۔ اُس دن سے لے کر آج تک کریم پابندِ سلاسل ہے۔
کریم کے بھائی ندیم یونس کہتے ہیں کہ "میں کریم کی عالی ہمّت اور بلند حوصلے کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں جو ابھی تک مُصر ہے کہ زندگی اُس کی منتظر ہے ، کریم نے ایک دن بھی ہمّت نہیں ہاری”۔
اسرائیلی عدالت کریم کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنا چکی ہے۔ اسرائیلی جیل حکام نے کریم کو 75 روز کے لیے سُرخ لباس پہنا دیا قبل اس کے کہ سزا میں کمی کر کے اُسے عمر قید یعنی 40 برس کی جیل میں تبدیل کر دیا جائے۔ کریم پر ایک اسرائیلی فوج کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ کریم نے اسرائیلی جیلوں میں رہتے ہوئے دو کتابیں لکھ ڈالیں۔ ابھی اس کے سامنے 5 برس کی قید اور ہے جس کے بعد 40 برس کی عمر قید اختتام کو پہنچ جائے گی۔
صبحیہ خاتون اپنے کانپتے ہاتھوں سے آنسو پوچھتے ہوئے کہتی ہیں کہ "میری آرزو ہے کہ کریم اسرائیلی جیلوں سے باہر آ کر میرے ساتھ زندگی گزارے خواہ صرف ایک ہی برس کیوں نہ ہو”۔
اسرائیل کریم یونس کو رہا کرنے سے اِس بہانے انکار کرتا ہے کہ کریم کے پاس اسرائیلی شہریت ہے۔ لہذا وہ 1948ء کے دیگر فلسطینی قیدیوں کی طرح قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتوں میں شامل نہیں ہو سکتا”۔
کریم اس وقت صحرائے نقب کی جیل میں قید کاٹ رہا ہے۔ اس سے قبل وہ ایک سے زیادہ اسرائیلی جیلوں میں منتقل کیا جاتا رہا ہے۔
