فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کلب برائے اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسیر بسام السائح کو جمعرات کو سرجری کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں اسیر کی سرجری کا عمل مکمل کیا گیا۔ کلب برائے اسیران کی لیگل یونیٹ کی مندوب ارویٰ حلیحل نے بسام السائح کی سرجری کے عمل کی مانیٹرنگ کی۔ ان کا کہنا ہے کہ بسام کو دل کے آپریشن کے بعد جیل کے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ 43 سالہ اسیر بسام السائح بہ یک وقت دل کے امراض کے ساتھ ساتھ کینسر کا بھی شکار ہے۔ فلسطینی ڈاکٹر سمیر المطور نے بھی اسیر کا معائنہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد السائح کی حالت کافی بہتر ہے۔
بسام السائح کے دل کے پٹھے کمزوری کا شکار تھے۔ ڈاکٹروں نے ان کی سرجری کا مشورہ دیا تھا اور دل میں پٹھوں کی پیوند کاری کی سفارش کی تھی۔ اسیر خون کے کینسر کے ساتھ ساتھ گردوں کی بیماری کا بھی شکار ہیں اور چلنے پھرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے۔
بسام السائح کو اسرائیلی فوج نے 8 اکتوبر 2015ء کو حراست میں لیا تھا۔ ان کی اہلیہ منا السائح بھی اسرائیلی جیلوں میں قید رہ چکی ہیں۔۔
